اُڈپی :22/نومبر (ایس او نیوز) اسلام کاپرسنل لاء بھارتی دستور کا متبادل نظام نہیں ہے ، بلکہ یہ ایک بہت ہی محدود سطح پر خاندانی مسائل کو حل کرنےکے لئے دی گئی رعایت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ریاست کے مشہور کنڑا روزنامہ کے مدیراعلیٰ عبدالسلام پتگے نے کیا۔ موصوف اُڈپی مسلم متحدہ محاذ کے زیراہتمام اُڈپی کے درگا انٹرنیشنل ہوٹل ہال میں منعقدہ ’’یکساں سول کوڈ اور پرسنل لاء‘‘ کے متعلق اپنا مقالہ پیش کررہے تھے۔
موصوف نے اپنے مقالے میں کہا کہ بھار ت کے 99فی صد قوانین ملک کے تمام شہریوں کو مساوی طورپر تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے شادی ، طلاق ، جائیداد کی تقسیم ، وراثت سمیت کچھ محدود باتوں کو دین اسلام کے مطابق حل کرنےکے لئے رعایت دی گئی ہے ، لیکن اس کے حدود بہت ہی چھوٹی ہیں۔ طلاق کا مسئلہ اچھا ل کر خواتین کی زیادہ سے زیادہ ہمدردی کااظہارکیا جارہاہے۔ لیکن اس ملک میں ہر 16منٹ پر ایک عصمت دری ، ہر 4منٹ میں ایک خاتون ظلم کا شکار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین سے تعلق رکھنے والے فی گھنٹہ 26سنگین جرائم ہوتے ہیں، اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اس کے متعلق کوئی سنجیدہ بحث نہیں ہوتی ہے۔ صرف اندازے ، قیاس آرائی پر کسی مسئلہ کو سمجھنا نہیں چاہئے بلکہ مطالعہ کرتے ہوئے اس کے متعلق جانکاری حاصل کریں۔ یہ سچ ہے کہ مسلمانوں میں طلاق کا مسئلہ ہے ، لیکن چڑیا پر برہماستر چلانا ٹھیک نہیں ہے، طلاق کے لئے دین اسلام میں حل موجود ہے، اس بنیاد پر اس کا حل نکالنا ممکن ہونے کی بات کہی۔ کوئی بھی مسلمان طلاق کی حمایت نہیں کرتا، ہرایک جانتاہے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے، طلاق کاسب سے پہلا تصور دینے والا مذہب ، اسلام ہے، یہ خواتین کو سزا دینے کے لئے بنایاگیا قانون نہیں ہونے کی بات کہی۔ مسلمانوں میں طلاق ثلاثہ سے متاثرہونے والی خواتین کی تعداد 1فی صد سے کم ہے ، اس سے کہیں زیادہ بھیک مانگنے ، عصمت دری کا شکار ہونے والی لاکھوں عورتیں ہیں، سب سے پہلے انہیں ایک عزت والی زندگی فراہم کرنےکا کام ہوناچاہئے۔ مسلمان خواتین کو معاشی اور سماجی سطح پر جو مسائل درپیش ہیں اس کے حل کے لئے اقدامات کرنےکی ضرورت ہے۔
عبدالسلام نے مرکزی حکومت سے مانگ کی کہ مرکزی حکومت جس یکساں سول کوڈ کی بات کررہی ہے وہ پہلے اس کی نمونے والی کاپی عوام کے سامنے رکھے۔ اس کے بعدعوام اس کے متعلق اظہار خیال کریں گے۔ اگر وہ قبول کرنے والی چیز ہے تو تمام اس کو منطوری دیں گے، اس میں کوئی کسی کو شک وتذبذب نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے بعد سوال جواب کے سیشن میں کئی سولات کا جواب دیا گیا۔ اس موقع پر سامعین میں سے چند ایک نے اپنے خیالات کااظہار کیا۔ متحدہ محاذ کے صدر محمد یاسین ملپے نے افتتاحی کلمات پیش کئے۔
اجلاس کا آغاز حافظ محمد یونس کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ صلاح الدین شیخ نے ترجمہ پیش کیا۔ صادق اُڈپی نے شکریہ ادا کیا۔ حسین کوڑی بینگر ے نے نظامت کے فرائض انجام دئیے ۔